8 ستمبر 2011 - 19:30

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر احمدی نژاد نے کہا ہے کہ ہمسایہ ملکوں میں ایران مخالف اقدامات پر ہوشیار رہنا ہوگا۔

ابنا: ایوان صدر کی ویب سائٹ کے مطابق صدر جناب احمدی نژاد نے جمعرات کی رات کو تہران میں کویت کی صحافتی شخصیات سے ملاقات میں ترکی میں امریکہ کی میزائل شیلڈ کی تنصیب کے حوالے سے کہا کہ ترکی ایران کے اچھے دوست ملکوں میں شمار ہوتا ہے لیکن جب اس ملک میں دشمن میزائل شیلڈ نصب کر رہا ہے اور یہ کہتا ہے کہ یہ ایران کے خلاف ہے تو ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔صدر احمدی نژاد نے شام کے مسائل کے بارے میں کہا کہ شام میں اختلافات میں شدت نہیں آنی چاہیے لیکن بعض ملک شام میں ہتھیار بھیج رہے ہیں اور اس کام سے یقینا مشکلات کے حل میں مدد نہیں ملے گي۔ انہوں نے کہا کہ شام کی حکومت اور عوام مسلمان ہیں اور اسلامی ملکوں کو مفاہمت سے ایک ملک کے مسائل کے بارے میں موقف اپنا کر اور اختلافات حل کروا کر اصلاحات میں مدد کرنی چاہیے۔صدر جناب احمدی نژاد نے کہا کہ موثق اطلاعات کے مطابق امریکہ اور اسکے اتحادیوں نے علاقے کے ملکوں کے لئے وسیع سازشیں بنائي ہیں اور وہ علاقے میں افراتفری مچانا چاہتے ہیں یہانتک کہ شام جیسے بعض ملکوں میں ہتھیار بھی بھیج رہے ہیں۔ انہوں نے شام کے مسائل حل کرنے میں تہران کی مدد کے بارے میں کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران شام کے مسائل حل کرنے کے لئے اسلامی ملکوں کا اجلاس منعقد کرانے کو تیار ہے تاکہ سب کی مفاہمت سے شام کی مدد کی جاسکے۔صدر جناب احمدی نژاد نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ یہ تاکید کی ہے کہ وہ علاقے کے تمام ملکوں کے ساتھ برادرانہ تعلقات چاہتا ہے اور یہ ایران کی اصولی پالیسی ہے ۔ انہوں نے تاکید کی کہ علاقے کے مسائل علاقائي ملکوں کی شراکت سے حل ہونے چاہيں.............../169